فهرس الكتاب

الصفحة 2765 من 6343

21۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و ضلالت کی مزید تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر دین اسلام ان کی خواہشات کی مطابق ہوتا تو نظام عالم درہم برہم ہوجاتا، اور آسمان اور زمین میں پائی جانے ولی تمام مخلوقات خواہشات نفس کی اتباع اور گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے تباہ و برباد ہوجاتیں، اس کے بعد قرآن نے ان کی عقل پر ماتم کیا ہے کہ قرآن اہل قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے، اور انہی میں سے ایک فرد پر نازل ہوا ہے، یہ بات ان کے لیے باعث فخر و عزت تھی، لیکن انہوں نے اپنے کبر و نخوت کی وجہ سے اس سے منہ موڑ لیا ہے۔

آیت (72) میں ان کی حالت پر مزید اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ آپ ان سے تبلیغ اسلام کا کوئی معاوضہ بھی تو نہیں مانگتے ہیں کہ ان پر یہ بات گراں گزر رہی ہے، آپ کو تو آپ کے رب کی جانب سے دنیا میں جو روزی مل رہی ہے اور آخرت میں جو اجر و ثواب ملے گا وہ ہر چیز سے بہتر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو سب سے بہتر روزی رساں ہے، اور آپ تو انہیں اس راہ کی طرف بلا رہے ہیں جو بالکل سیدھی راہ ہے اس میں کوئی کجی نہیں ہے، یعنی آپ انہیں دین اسلام کی طرف بلا رہے ہیں، اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ آپ کا احسان مانتے اور اسے فورا قبول کرلیتے، لیکن چونکہ وہ لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اس لیے اس دین کو قبول کرنے سے اعراض کر رہے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت