(5) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا کفار قریش آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں؟ اگر ایسی بات ہے تو پھر منزل بہ منزل چڑھتے ہوئے ساتویں آسمان تک پہنچ جائیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نزول وحی کو روک دیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس میں کفار قریش کی غایت درجہ کی تحقیر اور ان کی عاجزی و بے بسی کا بیان ہے۔ اسی لئے اللہ نے آیت (11) میں فرمایا کہ کافر قریش کا حقیر لشکر عنقریب ہی بری طرح شکست کھائے گا اور ہمیشہ کے لئے ان کا زور ٹوٹ جائے گا۔ اس لئے اے میرے نبی ! آپ ان کی پرواہ نہ کیجیے، آپ کے خلاف ان کی ہر سازش دھری کی دھری رہ جائے گی۔ چنانچہ میدان بدر میں بری طرح قتل کئیگئے اور جو بچ گئے قید کر لئے گئے اور فتح مکہ کے دن رہی سہی کمی پوری ہوگئی اور نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آ کر اپنی جان بخشی کی بھیک مانگی ؟