فهرس الكتاب

الصفحة 2817 من 6343

4۔ اس آیت کریمہ میں زنا کی تہمت لگانے والے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی آزاد بالغ اور پاکدامن مسلمان مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے، تو شریعت اسلامیہ اس سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے دعوی کی صداقت پر چار گواہ پیش کرے، اگر ایسا کرنے سے وہ قاصر رہے گا تو حاکم وقت اسی کوڑے لگائے گا اور اس کی عدالت ساقط ہوجائے گی ور اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ توبہ کر کے اپنی حالت سدھار لے، ائمہ کرام مالک، شافعی اور احمد کا یہی مذہب ہے۔ یعنی توبہ کرلینے کے بعد اس کی گواہی قبول کی جائے گی اور یہی قول راجح ہے، اس لیے کہ توبہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ توبہ کرلینے کے بعد فاسق نہیں رہے گا، لیکن اس کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی، قاضی شریح اور ابراہیم نخعی وغیرہما کا بھی یہی خیال ہے، لیکن کوڑے لگانا کسی کے نزدیک کسی حال میں بھی ساقط نہیں ہوگا۔

البتہ جمہور علماء کی رائے ہے کہ غلام کو صرف چالیس کوڑے لگائے جائیں گے، اور ابن مسعود، عبداللہ بن عبدالعزیز اور قبیصہ وغیرہم کے نزدیک اسے بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ اور علماء کا اجماع ہے کہ اگر کوئی آزاد غلام کسی غلام پر زنا کی تہمت لگاتا ہے تو اسے کوڑے کی سزا نہیں دی جائے گی۔ بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ جو شخص اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے دن حد جاری کی جائے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت