فهرس الكتاب

الصفحة 5655 من 6343

(9) انسان روزانہ اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتا ہے کہ لوگ بے بسی کے عالم میں مر جاتے ہیں اور کوئی انہیں بچا نہیں پاتا۔ ان کی روحیں جسد خاکی سے نکل کر اپنے خالق کے پاس چلی جاتی ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انسان موت کے ان مناظر سے عبرت حاصل کرتا اور آخرت میں عذاب نار سے بچنے کی تدبیر کرتا، لیکن اس کی شومئی قسمت کہ وہ ایسا نہیں کرتا۔ ایسے ہی کافرو متکبر اور غافل انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اللہ کی ایٓتوں کی تکذیب کی، اس کی نعمتوں کا انکار کیا، اپنی زندگی میں اس نے نمازوں کا اہتمام نہیں کیا، دین حق کو جھٹلایا اور طاعت و بندگی کی راہ پر نہیں چلا اور ان تمام گناہوں کے ارتکاب کے باوجود اس کا دل مطمئن رہا اور اللہ سے ڈر کر کبھی تو بہ کی نہیں سوچی، بلکہ استکبار کے ساتھ اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔

واحدی نے مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوجہل کا ہاتھ پکڑیا، پھر کہا کہ تمہارے لئے بربادی ہی بربادی ہے تو ابوجہل نے کہا، تم مجھے کس چیز کی دھمکی دیتے ہو تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، میں اس وادی کا معزز ترین آدمی ہں، تو یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تائید میں اس کافرو متکبر انسان کا انجام بتا دیا کہ اس کے لئے ہلاکت و بربادی ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ لفظ " اولی" کو چار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اس کیلئے ہلاکت و بربادی زندگی میں ہے اور مرنے کے بعد بھی ہے اور جس دن وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور جب جہنم میں ڈالا جائے گا۔

نسائی، حاکم، طبرانی، ابن المنذر اور ابن جریر وغیرہ نے سعید بن جبیر سے روایتکی ہے کہ میں نے ابن عابس (رض) سے (اولی لک فاؤلی) کے بارے میں پوچھا، کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوجہل کو یہ بات اپنی طرف سے کہی تھی یا اللہ نے حکم دیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے کہا تھا، پھر اللہ نے اسے قرآن میں نازل کردیا۔ اس روایت کو حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق صحیح کہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت