فهرس الكتاب

الصفحة 4671 من 6343

(10) اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بدظنی، تجسس اور غیبت سے منع فرمایا ہے، اس لئے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن کے بارے میں حسن ظن رکھا جاء، اس کے خلاف تجسس نہ کیا جائے، اور اس کی غیبت نہ کی جائے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کا سبب یہ بیان کیا کہ بعض بدظنی انسان کو گناہ تک پہنچا دیتی ہے، جیسے کہ نیک لوگوں سے بدظنی کی وج ہسے ان کے بارے میں بری باتیں پھیلائی جائیں۔

زجاج کہتے ہیں کہ آیت میں " ظن" سے مراد اہل خیر کے بارے میں بدظنی رکھنی ہے، بدکرداروں اور فاسقوں کے ظاہری اعمال سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے، ان کے بارے میں ویسا ہی خیال رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرطبی نے اکثر علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جس مسلمان کا ظاہر اچھا ہو، اس کے بارے میں بظنی جائز نہیں ہے اور جس کا ظاہر خراب ہو اس کے بارے میں بدگمانی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اور تجسس یہ ہے کہ کوئی شخص مسلمانوں کے عیوب اور ان کی پوشیدہ باتوں کی کرید میں لگا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو ان عیوب اور پوشیدہ باتوں پر پردہ ڈال رکھا ہے اور وہ ان سے پردہ ہٹا دینا چاہتا ہے۔

اور غیب یہ ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہی جائے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: غیب یہ ہے کہ کسی کی پیٹھ پیچھے اس کے بارے میں وہ بات کہی جائے جو اس کے اندر موجود ہے، اور اگر وہ برائی اس کے اندر نہیں ہے تو وہ بہتان ہے

اور آیت میں غیب کو مردے کا گوشت کھانے سے اس لئے تشبیہہ دیا گیا ہے کہ جس طرح مردہ کو خبر نہیں ہوتی کہ کوئی اس کا گوشت کھا رہا ہے اسی طرح غیبت کئے جانے والے کو خبر نہیں ہوتی کہ کوئی اس کی عیب جوئی کر رہا ہے۔

آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ آدمی کی عزت اس کے گوشت کے مانند ہے، جس طرح اس کا گوشت کھانا حرام ہے، اسی طرح اس کی عزت کے بارے میں بات کرنی بھی حرام ہے اور مقصود غیبت سے نفرت دلانی ہے، کیونکہ انسانی طبیعتیں ادمی کا گوشت کھانے سے نفرت کرتی ہیں۔

آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسلمانو ! جن برے اعمال سے تمہیں اس آیت میں روکا گیا ہے ان کا ارتکاب نہ کرو اور اللہ کے عقاب سے ڈرتے رہو اور اگر کسی سے کوئی ایسی غلطی ہوجاتی ہے اور پھر اپنے گناہ پر نادم ہوتا ہے، اور اس سے تائب ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور بے حد مہربان ہے۔

جن برے اعمال سے اس آیت کریمہ میں منع کیا گیا ہے، ان کی ممانعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی متعدد احادیث میں بھی آئی ہے۔ بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" مسلمانو ! تم بدظنی سے پرہیز کرو، اس لئے کہ بدظنی سب سے جھوٹی بات ہے، اور تجسس نہ کرو اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو، اور آپس میں ایک دوسرے سے حسد، دشمنی اور بغض نہ رکھو اور کسی کے پیچھے نہ لگو اور اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بن کر رہو۔ "

اور ابوداؤد نے معاویہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کی کرید میں لگے رہو گے، تو انہیں خراب کر دو گے۔ "

اور تمذی نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اور آواز اتنی اونچی کی کہ عورتوں کو ان کے گھروں میں سنایا، فرمایا:" اے وہ لوگو جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو، حالانکہ ایمان تمہارے دلوں میں پیوست نہیں ہوا ہے، مسلمانوں کی چھپی باتوں کی کرید میں نہ لگو، جو شخص مسلمانوں کی چھپی باتوں کی کرید میں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی چھپی باتوں کو کریدتا ہے، یہاں تک کہ اسے رسوا کردیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہو۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت