فهرس الكتاب

الصفحة 5605 من 6343

(8) روز قیامت اور اس کے جزا و سزا کی یقین دہانی کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا، اگر اچھا عمل کیا ہوگا تو اس کی نجات ہوجائے گی اور اگر برا عمل کیا ہوگا تو وہ اسے ہلاک کر دے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( الا اصحاب الیمین) کہ جن کے اعمال اچھے ہوں گے، ان کی گردنیں عذاب سے آزاد کردی جائیں گی، جیسے کوئی رہن رکھنے والا قرض ادا کر کے اپنا رہن چھڑا لیتا ہے۔

وہ اصحاب الیمین اس دن ایسی جنتوں میں ہوں گے جن کی نعمتوں، راحتوں اور آسائشوں کا ادراک کوئی شخص اس دنیا میں نہیں کرسکتا وہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے آپس میں باتیں کریں گے، یہاں تک کہ بات ان مجرمین تک پہنچ جائے گی جو دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کے باغی تھے اور جن کی موت کفر و شرک پر ہوئی تھی، تو جنتی ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیوں نہ جہنم میں جھانک کر ان کا حال معلوم کیا جائے، چنانچہ انہیں بیچ جہنم میں شدید عذاب کی حالت میں پائیں گے، اور ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے کس کرتوت نے تمہیں جہنم میں پہنچا دیا ہے؟ تو وہ جہنمی کہیں گے کہ ہم دنیا میں اللہ کے لئے نماز نہیں پڑھتے تھے مسکینوں کے لئے اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتیت ھے دین اسلام، قرآن کریم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش کرنے والوں کا ساتھ دیتے تھے اور قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے ہمارا یہی حال رہا یہاں تک کہ موت نے ہمیں آدبوچا اور آج ان حقائق کا مشاہدہ کرلیا جن کا دنیا میں ہم انکار کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت