فهرس الكتاب

الصفحة 1990 من 6343

(46) عوفی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ کافر اور مومن کی مثال ہے، یعنی دونوں کے درمیان موازنہ کر کے مومن کی برتری ظاہر کرنی مقصود ہے، اور مجاہد کی رائے ہے کہ یہ بتوں اور اللہ تعالیٰ کی مثال ہے، شوکانی صاحب فتح البیان اور جمال الدین قاسمی وغیرھم نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔ امام ابن القیم نے بھی اعلام الموقعین میں اسی کی تائید کی ہے کہ جس طرح غلام جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا اور اپنے آقا کے مال میں اس کی بغیر اجازت کے تصرف کرنے سے بالکل عاجز ہوتا ہے، اس آزاد انسان کے برابر نہیں ہوسکتا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت سے نوازا ہے اور پوری آزادی اور فراوانی سے دن اور رات خرچ کرات ہے، حالانکہ اللہ کی مخلوق اور انسان ہونے میں دونوں برابر ہیں، لیکن دونوں کے حالات برابر نہیں ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ جو سارے جہان کا پالنہر ہے اس کے برابر پتھر کے تراشے ہوئے بت کیسے ہوسکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ساری تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں اس لیے کہ تمام نعمتیں اس کی دی ہوئی ہیں، پتھروں کے بنے ہوئے اصنام کیسے کسی حمد و ثنا کے مستحق ہوسکتے ہیں، لیکن اکثر لوگ (جو شرک کرتے ہیں) اس بات کو نہیں سمجھتے نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت