(20) اللہ تعالیٰ نے فرعون اور فرعونیوں کے بارے میں فرمایا بجائے اس کے کہ وہ اللہ کے عاجز ومتواضع بندے بن کررہتے انہوں نے سرزمین مصر میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے متکبر ومغرور اور بڑا بنا کر پیش کی، جس کے وہ کسی طرح اہل نہیں تھے اس لیے کہ ہر قسم کی کبریائی اور بڑائی تو صرف اللہ کے لیے ہے اور انہوں نے بعث بعدالموت اور قیامت کا انکار کردیا اور سمجھ بیٹھے کہ اس زندگی کے بعد اب کوئی زندگی نہیں ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اپنی گرفت میں لے لیا اور سمندر میں ڈبودیا کہتے ہیں کہ ڈوبنے والوں کی تعداد سولہ لاکھ تھی۔ واللہ اعلم
آیت 40 کے آخر میں نبی کریم کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ کفر کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے آپ دیکھ لیجئے آیت 14 میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رہتی دنیا تک کے لیے کفر وسرکشی کرنے والوں کاسرغنہ بنادیا کہ ایسے لوگ ہر دو میں اور ہر جگہ انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے اور کفر وشرک اور گناہوں کا ارتکاب کرکے جہنم کے حقدار بنیں گے اور قیامت کے دن ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا بلکہ ذلت ورسوائی کے ساتھ جہنم میں ڈال دیے جائیں گے، آیت (42) میں کہا گیا کہ ہم نے اس دنیا میں ان پر لعنت بھیج دی اور اپنی رحمت سے دور کردیا اور آخرت میں بھی وہ ہماری ہر خیر و رحمت سے دور کردیے جائیں گے اور عذاب نار کے ذریعہ ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔