فهرس الكتاب

الصفحة 4279 من 6343

(16) اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین سے کہے گا جب تم لوگ گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے تو اپنے کانوں، آنکھوں اور چمڑوں سے پردہ کرنے کی نہیں سوچتے تھے، کیونکہ تمہارے دل میں یہ خیال آتا ہی نہیں تھا کہ قیامت کے دن تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے اور تم یہ بھی گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے جرائم و معاصی کو نہیں جانتا ہے، جبھی تو ان کے ارتکاب کی جرأت کرتے تھے۔ اپنے رب سے متعلق تمہاری اسی بدگمانی نے تمہیں ہلاکت و بربادی کے دہانیت کو پہنچا دیا ہے۔ اسی وجہ سے تم نے دنیا میں اس کے احکام کی مخالفت کی جرأت کی اور اب آخرت میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اپنے گناہوں کا انکار کر رہے ہو اور سب کچھ کھو کر جہنم کی طرف لے جائے جا رہے ہو۔

آیت (24) میں اللہ تعالیٰ نے اسلوب کلام بدلتے ہوئے فرمایا کہ آج اگر جہنمی صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو اس کے سوا چارہ ہی کیا ہے، کیونکہ اب تو جہنم ہی ان کا ہمیشہ کے لئے ٹھکانا ہے اور اگر چاہتے ہیں کہ اللہ ان سے راضی ہوجائے اور جنت میں داخل کردیئے جائیں، تو ان کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہوگی، یعنی نہ جہنم سے نکالے جائیں گے اور نہ ہی اس کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت