2۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کی گئی ہے کہ اگر مشرکین مکہ آپ پر اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے ہیں، تو اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک نہ کرلیجئے، آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے، اسے آپ نے انجام دے دیا، ہدایت دینا آپ کا کام نہیں ہے، اور اگر ہم چاہتے کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کردیں، تو ہمارے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی، ہم آسمان سے کوئی ایسی نشانی بھیج دیتے جسے دیکھ کر وہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے، جیسے کسی پہاڑ یا کسی بڑے ستارے، یا کسی فرشتہ کو ان کے سروں کے اوپر لے آتے، اور مارے خوف و دہشت کے ان کی گردنیں جھک جاتیں کہ کب ان کے سروں پر گر کر انہیں ہلاک کردے، اور اپنے آپ کو اس حال میں پا کر مجبوراً ایمان لے آتے، لیکن ایسا ایمان ان کے کسی کام کا نہیں ہوگا۔