فهرس الكتاب

الصفحة 2725 من 6343

9۔ واقعہ نوح کے بعد اب قصہ ہود بیان کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان کے بعد ایک دوسری قوم کو پیدا کیا، اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ (قرنا آخرین) سے مراد قوم عاد ہے، بعض لوگوں نے قوم ثمود مراد لیا ہے اس لیے کہ یہاں بتایا گیا ہے کہ اس قوم کو چیخ کے ذڑیعہ ہلاک کیا گیا تھا اور دوسری آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ چیخ کے ذڑیعہ قوم ثمود کو ہی ہلاک کیا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے انہی کے ایک فرد کو اپنا رسول بنا کر ان کے پاس بھیجا، جس نے انہیں ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور کہا کہ تم جو اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہو تو کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا ہے کہ اس کا غضب تم پر نازل ہوجائے؟ تو سرداران قوم جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی اور روز محشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا انکار کیا تھا اور جو دنیا کے ناز و نعم میں مست تھے، انہوں نے کہا کہ یہ (ہود یا صالح) تو تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہے، تمہاری ہی طرح کھاتا پیتا ہے، پھر تم لوگ کیسے راضی ہوجاؤ گے کہ وہ تمہارا سردار بن بیٹھ، اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت قبول کرلی تو اپنی عزت کھو بیٹھو گے اور بڑے خسارے میں رہو گے۔

پھر انہوں نے گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے کہا، اس کی یہ بات کتنی تعجب خیز ہے کہ جب تم لوگ مر کر مٹٰ بن جاؤأ گے اور صڑف تمہاری ہڈیاں رہ جائیں گی تو دوبارہ تمہیں زندہ کیا جائے گا۔ یہ بڑی انہونی اور بعید از عقل بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیاوی زندگی جب ختم ہوجائے گی تو ہم ووبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے، یہ آدمی اللہ کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے کہ اللہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ اور تمہارے اعمال کا حساب لے کر تمہیں جزا و سزا دے گا، اس لیے ہم اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔

جب انہوں نے اپنے پیغمبر کی کھلے عام تکذیب کدی اور اپنے کفر کا اعلان کردیا اور اللہ کے نبی ان کی جانب سے بالکل ناامید ہوگئے تو بالاخر انہوں نے اپنے رب سے مدد مانگی اور کہا اے میرے رب ! اب تو میری مدد فرما، اور ان کی جانب سے میری مسلسل تکذیب کی وجہ سے انہیں ہلاک کردے اتو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ کچھ ہی دیر کے بعد یہ لوگ اپنے کفر و سرکشی پر نادم ہوں گے۔ چنانچہ ایک ورح فرسا چیخ نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا جس کے وہ حقدار تھے۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بظاہر جو عذاب ان پر مسلط کیا گیا تھا، وہ فرشتے کی چیخ اور شدید ٹھنڈی اور طوفانی ہوا دونوں پر مشتمل تھی، اس عذاب نے انہیں ایسا ہلاک کیا کہ وہ سیلاب کے کیڑے مکوڑوں کے مانند حیقر ترین شے بن گئے، اور ظالموں کا ان کے کفر و عناد اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی وجہ سے ایسا صفٖایا ہوگیا کہ دنیا ان کے بدترین وجود سے پاک ہوگئی خس کم جہاں پاک۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت