فهرس الكتاب

الصفحة 2333 من 6343

(42) مذکورہ ذیل آیات میں بعث بعد الموت اور حساب و جزا کے عقیدہ کو ثابت کیا گیا ہے، دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کا منکر کہتا ہے کہ کیا میں مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ تو اللہ نے اس کے اس کافرانہ عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: کیا وہ بھول گیا ہے کہ میں نے اسے جب پہلی بار پیدا کیا تو اس کے قبل وہ موجود نہیں تھا، تو کیا میں اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوں؟ اس کے بعد اللہ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا، اے میرے نبی ! ہم ان تمام منکرین قیامت اور شیاطین کو میدان محشر میں جہنم کے گرد جمع کریں گے، درآنحالیکہ وہ مارے دہشت کے ذلیل و خوار گھٹنوں کے بل بیٹھے جہنم کو دیکھ رہے ہوں گے، کھڑے ہونے کی ان کے اندر طاقت ہی نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ نے سورۃ الجاثیہ آیت (28) میں فرمایا ہے: (وتری کل امۃ جاثیہ) اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوگی، مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذلیل ترین مخلوق شیاطین کے ساتھ ان کا حشر، ان کی حقارت ظاہر کرنے کے لیے کرے گا، نیز اس طرف بھی اشارہ مقصود ہوگا کہ ان کا شرک و کفر شیاطین کی اتباع کا نتیجہ تھا، اس لیے تابع و متبوع دونوں کو جہنم میں اکٹھا کردیا جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت