فهرس الكتاب

الصفحة 3034 من 6343

24۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، میں صرف اس رب العالمین کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے، اور جو دین و دنیا کی ہر بھلائی کی طرف میری رہنمائی کرتا ہے، اور جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، یعنی اس نے مجھے روزی دینے کے لیے تمام آسانی اور زمینی اسباب مہیا کیے، بادل بھیجا، پانی برسایا، زمین کو زندگی دی اور انواع وا قسام کے پھل اور غذائی مادے پیدا کیے، اور پانی کو صاف شفاف اور میٹھا بنایا جسے جانور اور انسان سبھی پیتے ہیں اور جب میں بیمار ہوتا ہوں، تو مجھ شفا دینے پر اس کے سوا کوئی قادر نہیں ہوتا۔

ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ادب کے طور پر بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ کی طرف منسوب کیا، ورنہ معلوم ہے کہ بیماری اور شفا دونوں ہی اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ اس رب العالمین کی صفت یہ بھی ہے کہ وہی تمام انسانوں کو موت دیتا ہے، اور قرب قیامت کے وقت وہ سب کو دوبارہ زندہ کرے گا، اور اسی سے امید کی جاتی ہے کہ قیامت کے دن وہ میرے گناہوں کو معاف کردے گا

مفسرین لکھتے ہیں کہ آیت 82 میں خطیئۃ سے مراد وہ تین باتیں ہیں جنہیں ابراہیم (علیہ السلام) گناہ سمجھتے تھے، اور جنہیں یاد کر کے قیامت کے دن لوگوں کے لیے شفاعت کرنے سے گریز کریں گے۔ پہلی بات، بتوں کو تورنے کے بعد ان کا یہ کہنا کہ یہ کام سب سے بڑے بت نے کیا ہے۔ دوسری بات، ان کا یہ کہنا کہ میں بیاری ہوں، تاکہ اپنی قوم کے ساتھ عید کے کھیل کود میں شریک نہ ہوں، اور ان کے چلے جانے کے بعد بتوں کا صفایا کردیں۔ اور تیسری بات، ظالم بادشاہ کے سامنے سارہ کو اپنی بہن بتانا ہے، تاکہ وہ زبردستی انہیں اپنے پاس نہ رکھ لے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت