(9) قوم نوح کے بعد، قوم ہود کا ذکر کیا گیا ہے، جسے قوم عد کہتے ہیں، ان لوگوں نے بھی اللہ کے رسول ہود (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو پھر جس عذاب کا ہم سے وعدہ کرتے ہو، جلد لے آؤ تو عذاب الٰہی نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور اس عذاب کو لوگوں کی تنبیہہ کا ذریعہ بنایا گیا اور وہ عذاب تیز و تند ٹھنڈی ہوا کی شکل میں تھا، اور وہ دن ان کے لئے بڑا برا ثابت ہوا، جس دن یہ عذاب ان پر مسلط کیا گیا وہ ہوا اس وقت تک چلتی رہی جب تک ان کا ایک ایک فرد ہلاک نہ ہوگیا وہ ان کے ایک ایک فرد کو اوپر فضا میں لے جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے وہاں سے اسے سر کے بل گراتی، تو وہ زمین پر اتنی سختی کے ساتھ گرتا کہ اس کا سر دھڑ سے الگ ہوجاتا۔ اس طرح انہوں نے اور دنیا والوں نے دیکھ لیا کہ اللہ کے عذاب نے انہیں کس طرح اپنی گرفت میں لے لیا، کس طرح اس بدترین عذاب کو لوگوں کی تنبیہہ کا ذریعہ بنایا گیا۔