فهرس الكتاب

الصفحة 4012 من 6343

(3) آیات (1) سے (8) تک کے نزول کا پس منظر بیان کرتے ہوئے ابتدا میں لکھا جا چکا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار قریش سے کلمہ " لا الہ الا اللہ" کا مطالبہ کیا تو وہ ابوطالب کے پاس سے دامن جھاڑ کر اٹھ گئے اور واپس جاتے ہوئے ایک دوسرے کو بت پرستی پر جمے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہنے لگے کہ لوگو ! اپنے آباء و اجداد کے طریقے پر قائم رہو اور محمد ہمارے اور ہمارے معبودوں کے بارے میں جو چاہے کہتا رہے ہمیں ان باتوں کی پرواہ نہیں کرنی ہے اور اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑتی ہے محمد کی ساری تدبیروں اور کوششوں کا مقصد یہی تو ہے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں جس توحید کی بات کی جا رہی ہے اور جس پر ایمان لانے کی ہمیں دعوت دی جا رہی ہے وہ تو نصاریٰ کے یہاں بھی موجود نہیں ہے، اس لئے معلوم ہوا کہ یہ محمد کی افترا پردازی ہے جس کی دلیل اس کے پاس اس کتاب کے سوا کوئی نہیں جسے وہ قرآن کہتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہ اللہ کی وحی ہے اور یہ بات اس لئے بھی قابل حیرت ہے کہ ہمارے درمیان اس سے زیادہ ملادار اور صاحب حیثیت لوگ موجود ہیں، تو اس کے بجائے کسی اور کو نبوت کیوں نہیں دی گئی ہے؟! مفسرین لکھتے ہیں کہ ان کی اس بات سے ان کے سینوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پوشیدہ بغض و حسد کی غمازی ہوتی تھی ان کے دلوں میں آگ لگی تھی کہ اللہ نے ان کے بجائے محمد کو ہی شرف نبوت سے کیوں نواز دیا۔ آیت (8) کے دوسرے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار قریش کو میرے قرآن کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ میری طرف سے نازل کردہ کتاب ہے یا نہیں اور ان کا یہ شک اس لئے زائل نہیں ہو رہا ہے کہ انکار قرآن پر انہیں اب تک سزا نہیں ملی ہے، اگر اس کی وجہ سے ان پر عذاب آگیا ہوتا تو سارا اشک و حسد از خود دور ہوگیا ہوتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت