(29) موسیٰ (علیہ السلام) ایک طویل مدت تک فرعون اور فرعونیوں کو دعوت اسلام دیتے رہے لیکن وہ اپنے کفر پر مصر رہے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر سرزمین مصر سے نکل جائیں اس واقعہ کی تفصیل سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف اور سورۃ یونس میں گزر چکی ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرایل کے ساتھ بحر قلزم کی طرف جانے لگے تو فرعون نے اپنی فوج کے ساتھ ان کا پیچھا کیا، اور اللہ کے فیصلہ کے مطابق سمندر کے کنارے پر مڈ بھیڑ ہوگئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنی لاٹھی پانی پر ماری، پانی دو طرف ہوگیا اور خشک راستہ بن گیا، موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر بے خوف و خطر چل پڑے، اور پیچھے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچ گئے، اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ جب بیچ میں پہنچا تو پانی نے انہیں ہر طرف سے آگھیرا اور سبھی اس میں غرق ہوگئے، فرعون نے اپنے کفر و استکبار کی وجہ سے اپنی قوم کو ہلاکت میں ڈال دیا، اور راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی نہیں کی۔