فهرس الكتاب

الصفحة 5297 من 6343

(3) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی خاطر ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ حفصہ نے آپ کا راز عائشہ کو کیوں بتا دیا اور دونوں ایسا کام کیوں کیا جس سے آپ کا سکون درہم برہم ہوگیا، یہ تو ایسا گناہ ہے جس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے دونوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دونوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ ادب و احترام نہیں کیا جو ان کا حق ہے، تمہیں اپنے اس گناہ سے توبہ کرنا چاہئے تاکہ اللہ تمہاری توبہ قبول کرلے اور اگر تم دونوں کسی ایسی بات پر اتفاق کرو گی جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکلیف کا باعث ہو، تو جان لو ! کہ نبی کا مولیٰ اللہ ہے اور جبرئیل ہیں اور نیک اہل ایمان ہیں اور ان سب کے بعد فرشتے آپ کی مدد کے لئے ہر وقت تیار ہیں، اس لئے کوئی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا تم دونوں تو بھلا عورتیں ہو، اللہ، جبرئیل اور فرشتوں کے مقابلے میں تمہاری کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟

مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عظیمترین شرف و عزت کا بیان، اور آپ کی مذکورہ دونوں بیویوں کے لئے تنبیہہ اور دھمکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت