(6) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان کی تخلیق اور حیات و موت کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی ہے، تاکہ وہ اپنی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا تصور کر کے اس پر اور روز آخرت پر ایمان لے آئیں، اب یہاں انہیں اپنی روزی کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی اللہ نے اسے ان کے لئے کن مراحل سے گذار کر مہیا کیا ہے تاکہ وہ اپنے رب کے شکر گذار بندے بنیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان اپنے کھانے کے بارے میں غور کرے جسے وہ ہر روز کئی بار کھاتا ہے کہ ہم نے اسے کن مراحل سے گذار کر صالح اور مفید غذائی بنائی ہے پہلے ہم نے زمین پر بارش برسایا پھر اسے زاعت کے قابل بنایا پھر اس سے مختلف قسم کے دانے اگائے، جیسے گیہوں، جو، باجرہ اور دیگر دانے، انگور اور سبزیاں اگائیں جیسے ککڑی اور کھیرے، زیتون اگایا جس کاپ ھل کھایا جاتا یہ اور جس کا تیل لگایا جاتا ہے، کھجور اگایا جسے تازہ اور خشک کھایا جاتا ہے، باغات اگائے جن کے درخت آپس میں ایک دوسرے سے گتھے ہوتے ہیں، نیز دیگر قسم کے پھل اگائے جنہیں آدمی کھاتا ہے، اور گھاس اگائی جسے اس کے جانور کھاتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ یہ ساری چیزیں ہم نے تمہارے لئی اور تمہارے جانوروں کے لئے پیدا کی ہیں ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ تماپنے رب کی عظیم قدرت اور یوم آخرت پر ایمان لے آؤ، اس کے شکر گذار بندے بنو اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرو۔