3۔ کفار کہ کے کفر و عناد اور ان کے تکبر اور ہٹ دھرمی کو بیان کیا جا رہا ہے کہ قرآن کریم بدستور نازل ہوتا رہا، ایک آیت کے بعد دوسری آیت اور ایک سورت کے بعد دوسری سورت، لیکن وہ لوگ قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب ہی کرتے رہے، ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سورۃ الانبیاء آیت 3 میں بھی تقریباً انہی الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی قرآن کریم سے نفرت اور دوری بیان کی ہے۔ آیت 6 میں ان کے اس کافرانہ رویہ پر دھمکی دی گئی ہے کہ چونکہ انہوں نے قرآن کو جھٹلا دیا ہے اس لیے ان پر وہ عذاب آ کر رہے گا جس کا مذاق اڑاتے تھے۔