فهرس الكتاب

الصفحة 4934 من 6343

(18) اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اچانک عذاب میں مبتلا نہیں کردیا، بلکہ لوط (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کے عذاب شدید سے بہت ڈرایا اور پوری کوشش کی کہ وہ راہ راست پر آجائیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ ہی لوط (علیہ السلام) کی باتوں کا مذاق اڑایا اور سمجھتے رہے کہ لوط کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور جس عذاب کی وہ دھمکی دے رہا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور ان کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں اپنے نووارد خوبصورت مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کی اجازت دے دیں، وہ مہمانان دراصل فرشتے تھے جو انسانوں کی شکل میں مجرموں کی آزمائش کے طور پر بھیجے گئے تھے۔ لوط (علیہ السلام) کی بڑھیا بیوی جو مجرمین کے ساتھ ملی ہوئی تھی، دوڑی گئی اور مجرمین کو خوبصورت مہمانوں کے آنے کی اطلاع دے دی، تھوڑی ہید یر میں تمام مجرمین لوط (علیہ السلام) کے پاس جمع ہوگئے اور کہا کہ وہ اپنے مہمانوں کو ان کے حوالے کردیں لوط (علیہ السلام) نے اللہ کا واسطہ دے کر ان سے منت و سماجت کی کہ وہ ان کے مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کا ارتکاب کر کے انہیں ذلیل و رسوا نہ کیں، لیکن انہوں نے ان کی ایک نہ سنی اور زبردستی ان کے گھر میں داخل ہونا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اندھا بنا دیا اور وہ مہمانوں کو نہ دیکھ سکے اور اللہ نے ان سے کہا کہ اب تم لوگ میرے عذاب کا مزا چکھو چنانچہ صبح کے وقت ایک دائمی اور کبھی نہ ہٹنے والے عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جس کے سبب دنیا میں ذلت و رسوائی کی موت مرے، اور عالم برزخ میں بھی وہ عذاب ان پر مسلط رہے گا، یہاں تک کہ انہیں جہنم میں پہنچا دے گا اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت کہے گا کہ تم لوگ میرے عذاب کا مزا چکھتے رہو۔

آیت (40) میں اللہ تعالیٰ نے چوتھی بار کہا کہ اس نے قرآن کریم میں بیان کردہ ان واقعات کے ذریعہ نصیحت حاصل کرنے کو آسان بنا دیا ہے تو کوئی ہے جو ان واقعات سے عبرت حاصل کرے؟

اور اس تکرار سے مقصود بندوں کو ماضی میں کافر اقوام کی ہلاکت کی یاد دلا کر، عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی غبت دلانا ہے، تاکہ فکر آخرت سے غافل نہ ہوجائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت