فهرس الكتاب

الصفحة 5967 من 6343

(1) آیات (1) سے (5) تک اللہ تعالیٰ نے بعث بعد الموت کی حقیقت کو باور کرانا چاہا اور کہا ہے کہ جب آسمان اپنے رب کا حکم سنتے ہی پھٹ جائے گا، اس کے ٹکڑیٹکڑے ہوجائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے اور شمس و قمر کی روشنی غائب ہوجائے گی، اور جب زمین تیزی کے ساتھ ہلنے لگے گی، اس پر موجود پہاڑ، مکانات اور دیگرتمام چیزیں ختم ہوجائیں گی اور زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی، جیسا کہ سورۃ طہ آیات (106/107) میں آیا ہے: (فیذرھا قاعا صفصفا، لاتری فیھا عوجا ولا امتا) اللہ تعالیٰ زمین کو بالکل ہموار اور صاف میدان بنا دے گا، جس میں آپ نہ کہیں موڑ توڑ دیکھیں گے اور نہ اونچ نیچ"

او زمین اپنے تمام خزانوں اور مردوں کو باہر نکال پھینکے گی، اور ان سے بالکل خالی ہوجائے گی، اس کے اندر کچھ بھی بایق نہیں رہے گا اور زمین اپنے رب کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے گا اور اسے ایسا ہی کرنا تھا، اس لئے کہ رب العالمین کے حکم سے کون سرتابی کرسکتا ہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ (واذنت لربھا وحقت) کیتکرار سے مقصود انسانوں کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانی ہے کہ آسمان و زمین ہر دو رب ذوالجلال کی قدرت و مشیت اور اس کے قہر وجلال کے دائرے سے ایک لمحہ کے لئے بھی خارج نہیں ہے۔

جس دن آسمان و زمین کی یہ حالت ہوجائے گی، اس دن انسانوں کا کیا حال ہوگا، وہ بیان سے باہر ہے، یا اس دن ہر آدمی یقینی طور پر جان لے گا کہ اس نے دنیا میں کیسے اعمال کئے تھے جن کا آج اسے بدلہ چکایا جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت