فهرس الكتاب

الصفحة 5785 من 6343

(9) ان کے جس رب نے ان پر یہ احسانات کئے، وہی آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، اسی نے انہیں پیدا کیا ہے، وہی ان کا نگراں و محافظ اور مدبر و کار ساز ہے، اور وہ " رحمٰن" ہے، اس کی رحمت ہر چیز کو شامل ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے۔

اور وہ شہنشاہ دو جہان قیامت کے دن جب مخلوق کا حساب لینے کے لئے فارغ ہوگا، تو ساری مخلوق اس کے سامنے اسکی عظمت و جلال سے ایسی مرعوب ہوگی کہ کسی کو اس کے سامنے زبان کھولنے کی جرأت نہیں ہوی ایک مدت کے بعد صرف وہ لوگ دوسروں کی شفاعت کے لئے اللہ سے بات کریں گے جنہیں وہ قہار و جبار بات کرنے کی اجازت دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیت (38) میں فرمایا ہے کہ جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی کلام نہ کرسکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے۔

صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم اللہ تعالیٰ میدان محشر میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے بات کریں گے، عرش کے نیچے سجدے میں گر جائیں گے اور اللہ کی ایسی تعریفیں کریں گے جو اللہ ان کے دل میں اسی وقت ڈالے گا، تب اللہ عزو جل ان سے کہے گا:" اپنا سر اٹھایئے، مانگئے آپ کو دیا جائے گا، اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ "

آیت (38) میں " روح" سے مراد (قول راجح کے مطابق) جبریل (علیہ السلام) ہیں، جنہیں سورۃ البقرہ کی آیات (87 اور 353) میں، سورۃ المائدہ کی آیت (110) میں اور سورۃ النحل کی آیت (102) میں (روح القدس) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت