فهرس الكتاب

الصفحة 3999 من 6343

(40) کفار مکہ اپنے کبر و غرور کے نشے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام سے کہا کرتے تھے کہ جس عذاب کا ہم سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ وہ کب آئے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دھمکی دی اور فرمایا کہ کیا یہ نادان لوگ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟ ہمارا عذاب تو ایسا ہے کہ جب وہ آجاتا ہے تو اس بدنصیب قوم کی صبح بڑ بری صبح ہوتی ہے، ہلاکت و تباہی انہیں ہر چہار جانب سے گھیر لیتی ہے۔

بخاری و مسلم نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا محاصرہ کیا اور یہود مسلمانوں کی فوج دیکھ کر چیخ پکار کرنے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:' اللہ اکبر خربت خیبر، انا اذا انزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین"" آج خیبر کی بربادی کا دن آگیا، ہم جب کسی قوم کے میدان میں پہنچ جاتے ہیں تو ان کی بح بڑی بری ہوتی ہے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت