فهرس الكتاب

الصفحة 2649 من 6343

(20) ابتدائے آفرینش سے جتنی قومیں دنیا میں ہوئیں اللہ کی طرف سے ان سب کے لیے قربانی کا ایک دن مقرر تھا، جس دن وہ جانوروں کو اللہ کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ (من بھیمۃ الانعام) میں اشارہ ہے کہ قربانی صرف جانوروں کی ہی جائز ہے اور (لیذکروا اسم اللہ) میں اشارہ ہے کہ قربانی کا مقصد ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چونکہ تم سب کا معبود ہر زمانے میں ایک ہی رہا ہے اس لیے تم سب اسی کی بندگی کرو۔

اس کے بعد نبی کریم کو حکم دیا کہ آپ خشوع و خضوع اختیار کرنے والے اللہ کے مخلص بندوں کو اپنے رب کی جانب سے اچھے انجام کی خوشخبری دے دیجیے، جن کی خوبیاں یہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر آتا ہے تو اس کی بندگی میں تقصیر اور اس کی یاد میں غفلت کے احساس سے ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں تو گھبراتے نہیں اور زبان پر کلمہ شکوہ نہیں لاتے، بلکہ صبر و شکیبائی سے کام لیتے ہیں، اور جو پانچوں وقت کی نمازیں مسجد میں مسلمانوں کے ساتھ تمام شروط و ارکان کا لحاظ کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں اور اللہ نے انہیں جو روزی دی ہے اس میں سے اپنے اہل و عیال فقرا و مساکین اور اللہ کے دیگر بندوں پر خرچ کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت