(26) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کے بعد آنے والی قوموں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا، یہودی، نصرانی اور مسلمان سبھی ان کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیتے ہیں اور ان کے لئے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتے ہیں اور قیامت تک ان کا ذکر جمیل قوموں میں باقی رہے گا۔
اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ ہم عمل صالح کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا عمل صالح یہ تھا کہ توحید باری تعالیٰ کی طرف اپنی قوم کو بلانے کی پاداش میں انہیں آگ کی نذر کردیا گیا، جس سے اللہ نے اپنے فضل خاص سے انہیں نجات دی، اسی لئے آیت (111) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے صادق الایمان بندوں میں سے تھے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے ایمان کی فضیلت و اہمیت ثابت ہوتی ہے، اس لئے ابراہیم جیسے عظیم نبی کی تعریف کے لئے ان کی اسی صفت کو بیان کیا گیا ہے۔