(20) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان اور جنوں کو اپنی بہت ساری دینی اور دنیوی نعمتوں کی یاد دلائی ہے اور اب مندرجہ ذیل آیات کریمہ میں اپنی بعض ان نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو وہ اپنے جنتی بندوں کو آخرت میں دے گا۔ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب مجرمین کا انجام بیان کیا جا چکا ہے تو ابان اہل تقویٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں اپنی زندی اللہ سے ڈرتے ہوئے گذارتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص روز حساب، اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے، اس لئے فرائض کی پابندی کرتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے اسے اس کا رب دو جنتیں دے گا، ایک ترک معاصی کے بدلے اور دوسری عمل صالح کے بدلے کہا جاتا ہے کہ ایک کا نام جنت عدن ہے اور دوسرے کا جنت نعیم
(ولمن خاف مقام ربہ جنتاں) کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کا رب اس کے احال کی خبر رکھتا ہے اور اس کے اقوال و افعال پر مطلع ہے اسے آخرت میں دو جنتیں ملیں گی، پس جن و انس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کریں گے؟!
اور ان دونوں جنتوں میں لمبی ڈالیوں والے انواع و اقسام کے درخت اور قسم قسم کے پھل ہوں گے تو اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے؟!
اور ان دونوں جنتوں میں سلسبیل اور تسنیم نام کی دو نہریں جاری ہوں گی عطیہ کا قول ہے کہ ایک میں صاف شفاف پانی جاری ہوگا جو کبھی خراب نہیں ہوگا اور دوسری میں شراب جاری ہوگی جو انتہائی لذیذ ہوگی۔
اور ان دونوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی اور ہر ایک کا مزا جداگانہ نہ ہوگا۔ بعی مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک قسم تازہ ہوگی اور دوسری خشک اور دونوں لذت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوں گی۔
امام بخاری نے عبداللہ بن قیس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" دو باغ ایسے ہوں گے جن کے برتن اور تمام اسباب چاندی کے ہوں گے اور دو باغ ایسے ہوں گے جن کے برتن اور تمام اسباب سونے کے ہوں گے اور اہل جنت اور اللہ کی دید کے درمیان جنت عدن میں اس کے چہرے کبریائی کی چادر حائل ہوگی۔ "
قرآن کریم میں ان نعمتوں کا ذکر بلاشبہ سننے والوں کو عمل صالح کی ترغیب دلاتا ہے اور برائی سے ڈراتا ہے اور یہ چیز اللہ کی عظیم نعمت ہے، پھر ان سے زیادہ خوش قسمت کون ہوگا جنہیں اللہ تعالیٰ آخرت میں ان نعمتوں سے نوازے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟!