فهرس الكتاب

الصفحة 1290 من 6343

(37) منافقوں کانبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ابتدائے اسلام سے یہی رویہ رہا ہمیشہ ہی شر پھیلانے اور صحابہ کرام کو آپ سے برگشتہ کرنے کی کو شش کی جیسا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول نے جنگ احد کے موقع سے کیا کہ راستہ سے ہی اپنے ساتھیوں کو کے کر واپس ہوگیا جن کی تعداد ایک تہائی لشکر اسلام کے قریب تھی اور منافقین پوری مدنی زندگی میں اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش ہی کرتے رہے جس کی تفصیل سے سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں اس لیے اگر غزوہ تبوک کے موقع سے بھی انہوں نے سازش کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے اور دوسروں کی بھی ہمت پست کی تو کوئی تعجب کی بات نہیں لیکن ان کی ہزار سازشوں کے باوجود اللہ کا دین غالب ہو کر رہا۔

حافظ ابن کثیر لکتے ہیں کہ جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آگئے تو سار عرب نے ان کی خلاف محاذ کھول دیا اور مدینہ میں رہنے والے یہود اور منافقین نے بھی پوری قوت کے ساتھ مخالفت شروع کر ید جب اللہ نے آپ کو میدان بد میں فتح ونصرت عطافر مائی اور اسلام غالب ہوا تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اب یہ دیبن آگے چل نکلا چنانچہ وہ لوگ بظاہر وطا فرمائی اور اسلام میں داخل ہوگئے لیکن اللہ نے جب بھی السلام اور مسلمانوں کو عزت دی ان منافقین پر غیظ وغضب کے مارے موت طاری ہوتی رہی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت