16۔ جادوگر یہ منظر دیکھ کر فوراً ایمان لے آئے اور سجدے میں گر گئے، انہیں یقین ہوگیا کہ یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ اللہ کا عطا کیا ہوا معجزہ ہے، اور موسیٰ جادوگر نہیں، بلکہ اللہ کے رسول ہیں۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ وہاں جو کچھ واقع ہوا، وہ اس بات کی دلیل تھی کہ جادو سے چیزوں کی حقیقت نہیں بدل جاتی، بلکہ آنکھوں کے سامنے ایک خیالی چیز پیش کی جاتی ہے۔ نیز یہ کہ ہر فن میں مہارت تامہ مفید ہے، جیسا کہ ان جادوگروں نے فن سحر میں مہارت رکھنے کی وجہ سے فوراً سجھ لیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہے، جادوگروں نے کہا ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے ہیں، جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے
فرعون جادوگروں کے یکایک ایمان لے آنے سے ڈر گیا کہ کہیں پوری قوم نہ ایمان لے آئے، اور وہ تنہا رہ جائے، اس لیے اس نے دھمکی دیتے ہوئے جادوگروں سے کہا کہ تم لوگ میری اجازت کے بغیر موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو، اب مجھے معلوم ہوا کہ موسیٰ ہی وہ بڑا جادوگر ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں فرعون اگرچہ کسی ایسی بات کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے موسیٰ کی بڑائی ثابت ہو، لیکن یہاں اس کا مقصد عام لوگوں کو یہ باور کرانا تھا کہ موسیٰ بھی ایک جادوگر ہے، اور اسی نے دوسروں کو جادو کی تعلیم دی ہے، یعنی یہ کوئی معجزہ نہیں ہے جو موسیٰ کے رب نے اسے عطا کیا ہے۔
فرعون نے کہا، تمہیں عنقریب اپنے کیے کا انجام معلوم ہوجائے گا، میں تم میں سے ہر ایک کا ایک ہاتھ اور دوسری جانب کا ایک پاؤں کاٹ دوں گا اور کھجور کے درختوں پر سولی دے کر لٹکا دوں گا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ فرعون نے ان مسلمانوں کو سولی دے دی تھی، اور بعض کہتے ہیں کہ اس نے ایسا نہیں کیا تھا، اور قرآن میں کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ اس نے اپنے کہے پر عمل کیا تھا
مسلمان جادوگروں نے اس کے جواب میں کہا کہ دنیاوی سزا سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ اگر ہم قتل کردئیے جائیں گے تو اپنے رب کے پاس اجر عظیم لے کر جائیں گے، ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے کفر اور جادوگری کے گناہ کو اس وجہ سے معاف کردے گا کہ حق واضح ہوجانے کے بعد ہم لوگ پوری قوم سے پہلے ایمان لے آئے ہیں۔