(24) اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو نبوت علم شریعت اور حکمت و دانائی سے نوازا تھا، اور لوگوں کے درمیان صحیح فیسلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی تھی، وہ اہل سدوم، اہل عمورہ اور آس پاس کی بستیوں میں تبلیغ دین کا کام کرتے رہے، لیکن ولگوں کی حالت نہیں بدلی اور جن خبیث اعمال کا ارتکاب کرتے تھے انہیں ترک نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کو لے کر وہاں سے نکل جائیں، اور ان بستیوں والوں کو ان کے فسق و فجور، فعل لواطت اور مجلسوں میں گوز کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ ان شہروں کی تعداد سات تھی، جبریل نے ان میں سے چھ کو الٹ دیا اور صرف (زغر) نام کی ایک بستی کو لوط (علیہ السلام) اور ان کے اہل و عیال کے لیے چھوڑ دیا۔
اللہ تعالیٰ نے آیت (75) میں فرمایا کہ ہم نے ولط کو ان کے صلاح و تقوی کی وجہ سے اپنی رحمت میں داخل کردیا۔ معلوم ہوا کہ صالحیت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہوتی ہے اور فسق و فجور اس کی رحمت سے محرومی کا باعث بنتا ہے، اور اللہ کے نیک بندوں میں سب سے زیادہ اصھاب صلاح و تقوی انبیائے کرام ہوتے ہیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے دعا کی تھی: (وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین) مجھے اپنی رحمت سے اپنے صالح بندوں میں داخل کردے۔ (النمل: 19)