فهرس الكتاب

الصفحة 4194 من 6343

(13) قرآن کریم اپنے معہود طریقہ کے مطابق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کر رہا ہے اور یہ بتا رہا ہے کہ بہرحال دنیا اور آخرت میں اچھا انجام اور کامیابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہی حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے نبی ! ہم نے آپ سے پہلے موسیٰ کو اپنی نشانیاں، دلائل اور ایک بہت ہی کھلا برہان دے کر فرعون، ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تھا۔

فرعون ملک مصر میں قبطیوں کا بادشاہ تھا، ہامان اس کا وزیر تھا اور قارون بنی اسرائیل کا ایک فردت ھا اور اپنے دور کا بہت ہی بڑا مالدار تھا۔ دولت و حشمت نے اسے کبر و غرور میں مبتلا کردیا تھا اور فرعون کے ساتھ جا ملا تھا۔ آیت میں (سلطان مبین) سے مراد تو رات ہے۔

موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کے سامنے اپنے رب کی دعوت توحید پیش کی اور عصائے موسیٰ، ید بیضاء اور دیگر معجزات پیش کئے جو ان کے رسول ہونے پر پوری صراحت کے ساتھ دلالت کرتے تھے اور فرعونیوں سے کچھ نہ بن پڑا، تو کہنے لگے کہ یہ تو کوئی بڑا جھوٹا اور جادوگر ہے اور آپس میں سازش کی کہ جو لوگ موسیٰ پر ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں کو خدمت کے لئے زندہ رکھا جائے اور اس سے مقصود بنی اسرائیل کی اہانت، ان کی تعداد کم کرنا اور ان کے دلوں میں یہ بات بٹھانی تھی کہ موسیٰ ہی ان کی بربادی اور ہلاکت کا سبب ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ فرعون کا بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا یہ دوسرا آرڈر تھا۔ پہلی بار موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے قبل تھا، اس کے بعد اس نے قتل کرنا بند کردیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں کی سازش دھری کی دھری رہ گئی، دین موسوی پھیلتا گیا، بنی اسرائیل کی نسل میں افزائش ہوتی رہی اور بالاخر فرعون اور فرعونی اپنے آخری انجام کو پہنچ گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت