فهرس الكتاب

الصفحة 5517 من 6343

سورۃ الجن مکی ہے، اس میں اٹھائیس آیتیں اور دو رکوع ہیں

تفسیرسورۃ الجن

نام: پہلی آیت میں " جن" کا لفظ آیا ہے، نیز اس سورت میں ایمان کی تعریف اور کفر کی مذمت سے متعلق جنوں کے تفصیلی اقوام آئے ہیں، اسی لئے اس کا نام " سورۃ الجن" رکھ دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول: قرطبی نے لکھا ہے کہی سورت تمام کے نزدیک مکی ہے۔ اسی مردویہ اور بیہقی نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ الجن مکہ میں نازل ہوئی تھی، ابن مردویہ نے عائشہ اور عبداللہ بن زبیر (رض) سے بھی یہی روایت کی ہے۔

سورۃ الاحقاف آیات (29) سے (32) تک میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن پڑھتے سنا اور آپ کی تلاوت سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام کو قبول کرلیا اور اپنی قوم کے پاس واپس جا کر ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی مذکورہ بالا آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے میں نے وہاں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ جنوں نے کب کب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن سنا اور وہ کون جن تھے جنہوں نے وادی نخلہ میں آپ کو عشاء کی نماز میں قرآن پڑھتے ہوئے سنا تھا، مناسب ہوگا کہ سورۃ الاحقاف کی ان چاروں آیتوں کی تفسیر دوبارہپڑھلی جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت