فهرس الكتاب

الصفحة 3658 من 6343

15 مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق اگر قوم سبا سے مانا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ ابلیس نے ان کے بارے میں اپنے دل میں یہ گمان کیا کہ اگر اس نے انہیں گمراہ کیا تو وہ لوگ اس کی پیروی کریں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ انہوں نے شیطان کی باتوں میں آ کر اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی اور اگر اس کا تعلق عام انسانوں سے مانا جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ ابلیس نے تمام انسانوں کے بارے میں ایسا گمان کیا کہ اگر وہ انہیں اللہ کی نافرمانی کی طرف بلائے گا تو وہ لوگ اس کی بات مان جائیں گے اور اس کے پیچھے ہو لیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اکثر و بیشتر لوگوں نے اس کی پیروی کی اور اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت