فهرس الكتاب

الصفحة 3808 من 6343

34 مشرکین کہا کرتے تھے کہ محمد شاعر ہے اور قرآن اس کی شاعری کا نتیجہ ہے اس آیت کریمہ میں انہی دونوں باتوں کی تردید کی گئی ہے کہ نہ محمد شاعر ہیں اور نہ قرآن ان کی جدت طبع کا نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انہیں شاعری نہیں سکھائی ہے کہ وہ شعر کہہ سکیں اور نہ ان کے مقام نبوت کے لئے یہ مناسب ہے منصب نبوت کو شاعری پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ شعراء تو جھوٹ بولتے ہیں اور مباغلہ اور خلاف واقعہ باتیں بیان کرتے ہیں، جبکہ قرآن کریم کتاب الٰہی ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ بندوں کو ان کے پیدا کرنے والے کی بندگی کی طرف بلایا جائے اور کفر و سرکشی کے انجام بد سے انہیں ڈرایا جائے، اسی لئے آیت 07 میں کہا گیا ہے کہ قرآن کریم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ ایمان و یقین کے ذریعہ زندہ اور آباد دلوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور کافروں کے لئے ان کے کفر و سرکشی کی وجہ سے عذاب آخرت ثابت ہوجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت