فهرس الكتاب

الصفحة 5214 من 6343

(6) ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں (سارہ اور لوط علیہا السلام) کے نقش قدم پر چلنے کی دوبارہ تاکید کی جا رہی ہے، اور مشرکین سے علیحدگی اور برأت پر پھر سے ابھارا جا رہا ہے اس لئے کہ اہل فساد سے دوستی اور تعلق دین حق اور اس کے ماننے والوں کے لئے ہر طرح نقصان دہ ہے، ان کی ہمیشہ یہی کوشش ہوت ہے کہ دین کی جڑوں کو کمزور کریں، ضعیف الایمان لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کریں اور عوت کی راہ میں روڑے اٹکائیں، اور مومنوں کی و آزمائش میں ڈالیں اسی لئے تو اللہ کے دشمنوں سے نفرت کرنا ایمان کا ایک درجہ ہے، کیونکہ جب تک اہل حق حق کے لئے متعصب نہیں ہوں گے اور متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ نہیں کریں گے، حق کو قوت نہیں مل سکتی ہے۔

آیت کا دوسرا حصہ: (لمن کان یرجو اللہ والیوم الاخر) اس بات کی دلیل ہے کہ ابراہیم اور ان کے مومن ساتھیوں کو اپناپیشوا نہ بنانا بدعقیدگی ہے، اسی لئے اس کے بعد کہا گیا: (ومن یتول فان اللہ ھوالغنی الحمید) " جو شخص ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس حکم سے روگردانی کے گا اور اللہ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنائے گا، تو وہ خود نقصان اٹھائے گا اللہ تو اس کے ایمان و بندگی سے بے نیاز ہے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت