فهرس الكتاب

الصفحة 1831 من 6343

(11) مندرجہ ذیل آیتوں میں اللہ نے اپنے عجائب قدرت اور غرائب تخلیق کے کچھ مظاہر بیان فرما کر اپنی وحدانیت پر استدلال کیا ہے۔ یہاں بروج سے مراد آفتاب و ماہتاب اور سات متحرک سیاروں کے وہ منازل ہیں جن کی تعداد تجربہ کے مطابق بارہ ہے۔ عربوں کے نزدیک زمانہ قدیم سے ستاروں کے منازل کا علم بڑا مفید مانا گیا ہے، انہی کے ذریعہ راستوں، وقتوں اور زرخیزی و قحط سالی وغیرہ کا پتہ چلاتے رہے ہیں، اس علم والوں کا خیال ہے کہ آسمان کے بارہ برج ہیں ان میں سے ہر تین برج عناصر اربعہ (آگ، پانی، مٹی، ہوا) میں سے ایک کے مزاج کے مطابق واقع ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بارہوں برج اٹھائیس منازل میں منقسم ہیں، ہر برج کی دو اور ایک تہائی منزل ہے، اور آسما کے یہی بارہوں برج ساتوں متحرک سیاروں کے منازل ہیں۔ انہی سیاروں اور ان کے منازل میں ان کی گردش سے موسم کی تبدیلی، سردی، گرمی، خزاں، بہار اور بہت سی مفید معلومات حاصل کی جاتی ہیں، آفتاب و ماہتاب اور ستارے آسمان کی زینت بھی ہیں، اور اہل نظر کے لیے فکر و نظر کا سامان بھی مہیا کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آسمان کو مردود و شیطان کی رسائی سے محفوظ کر رکھا ہے تاکہ ملا اعلی کی باتیں نہ سن سکیں، اور اگر ان میں سے کوئی تمرد اختیار کرتا ہے اور آگے بڑھ کر سننے کی کوشش کرتا ہے، تو آگ کا انگارہ اس کا پیچھا کر کے اسے ختم کردیتا ہے حسن بصری وغیرہ کی ہی رائے ہے کہ قبل اس کے کہ وہ ملا اعلی کی کوئی سنی ہوئی بات اپنے پیچھے والے جن کو بتائے، شہاب ثاقب اسے قتل کردیتا ہے، لیکن صحیح بکاری کی ابو ہریرہ سے مروی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کبھی تو وہ اپنے پیچھے والے جن کو سنی ہوئی بات بتا دیتا ہے، پھر شہاب ثاقب اس کا پیچھا کر کے اسے قتل کردیتا ہے، اور کبھی وہ بات بتانے سے پہلے ہی شہاب اسے قتل کردیتا ہے، لیکن امام شوکانی نے حسن بصری کے قول کو ہی ترجیح دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ آسمان کی خبریں انبیاء و رسل کے علاوہ دوسروں کو نہیں ملتی ہیں اور اسی لیئے کہانت کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت