(2) اوپر کی آیت سے اس آیت کا تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنے کی نصیحت کی اور کہا کہ عنقریب وہ ہیبت ناک دن آنے والا ہے جس دن انہیں اپنے کئے کا بدلہ مل جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا تمام مخلوق قبروں سے زندہ ہو کر نکل کھڑی ہوگی اور انہیں میدان محشر کی طرف ہانکا جائے گا وہ دن اپنی ہولناکیوں کی وجہ سے بڑا ہی کٹھن ہوگا اور کافروں کے لئے تو وہ دن انتہائی مشکل ہوگا اس لئے کہ نجات کی امید یکسر منقطع ہوجائے گی اور اپنی ہلاکت و بربادی کا انہیں قطعی یقین ہوجائے گا۔