(33) عرب کے کچھ قبائل اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بدترین افترا پردازی کرتے تھے کہ اللہ نے جنوں کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کرلیا، جس کے نتیجے میں فرشتے پیدا ہوئے، جو اللہ کی بیٹیاں ہیں، یہ بہت بڑی گمراہی تھی جس میں شیطان نے انہیں مبتلا کردیا تھا، یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی باطل مزعومہ پر ان کے اجر و توبیح کیلئے اپنے رسول سے کہا کہ ذرا ان سے پوچھئے تو سہی، کیا انہیں شرم نہیں آتی کہ اپنے لئے تو بیٹا ثابت کرتے ہیں جسے اپنی عزت و شرف کا باعث سمجھتے ہیں، اور اللہ کے لئے بیٹیاں ثابت کرتے ہیں جنہیں اپنے لئے ذلت و رسوائی کا سبب مانتے ہیں کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو وہ موجود تھے اور ان کے علم میں یہ بات آگئی تھی کہ فرشتے مؤنث ہیں؟ یقیناً ایسی کوئی بات نہیں ہے، وہ لوگ محض افترا پردازی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ ولادت تو ان جسموں کا خاصہ ہے جو نقص و فساد کو قبول کرتے ہیں اور اللہ تو ہر نقص و عیب سے پاک ہے، اس لئے ان کے جھوٹا ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
آیت (351) میں اور اس سے آگے فرمایا کہ کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے اپنے لئے بیٹیاں چن لی ہیں؟ تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے اور تمہارا یہ فیصلہ کیسا ہے کہ باری تعالیٰ کے مقام اعلیٰ کی طرف ناقص کو منسوب کرتے ہو، کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ اس کی ذات بیوی اور اولاد سے یکسر منزہ ہے۔ آیت (651) میں اللہ تعالیٰ نے کفار عرب کو مخاطب کیا کہ کیا تمہارے پاس اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کوئی واضح دلیل ہے؟ عقلی طور پر یہ محال ہے، اس لئے تم لوگ اگر سچے ہو تو بتاؤ کہ کیا یہ بات تمہارے پاس موجود کسی آسمانی کتاب میں ہے؟ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ جو کتاب الٰہی تمہاری ہدایت کے نازل ہوئی ہے، یعنی قرآن کریم، اس کا تو تم انکار کرچکے ہو۔ معلوم ہوا کہ تمہاری بات اللہ کے خلاف محض افترا پردازی ہے۔