فهرس الكتاب

الصفحة 1165 من 6343

(134) یہ حکم معراج کی رات کو پنجگانہ نمازوں کی فرضیت سے پہلے کا ہے، اس وقت مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ صبح وشام اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں، نمازوں کی فرضیت کے بعد اس آیت کا حکم عام باقی رہ گیا اگرچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے، لیکن اس میں تمام مسلمان داخل ہیں اس آیت سے ذکر الہی کے مندرجہ ذ یل آداب مستفاد ہیں:

1۔ ذکر الہی کی اصل یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو دل سے یاد کرے یعنی اگر دل غافل ہے اور زبان چل رہی ہے تو اسے ذکر الہی نہیں کہیں گے اور اللہ کو چپکے چپکے یاد کرے تاکہ ریاکاری کا شبہ نہ ہو اور اخلاص کے زیادہ قریب ہو۔

2۔ اللہ کے حضور خوب گریہ وزاری اختیار کرے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرے۔

3۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی خشیت دل پر طاری ہو کہ عمل کی زندگی میں تفصیر کی وجہ سے کہیں اللہ کی گرفت نہ ہوجائے۔

4۔ آواز اونچی نہ کرے جیسا کہ صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری کی روایت آئی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو تم لوگ کسی گونگے اور غائب کو نہیں پکار تے ہو جس ذات کو تم پکارتے ہو وہ بہت زیادہ سننے والا اور بہت قریب ہے۔

5۔ زبان دل کا ساتھ دے۔

6۔ ذکر الہی صبح شام ہو، اس آیت سے ان دونوں وقتوں میں ذکر الہی کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلما نوں کو نصیحت کی کہ وہ کبھی بھی اللہ کی یا د سے غافل نہ ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت