(13) مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت کریمہ " محاسبہ نفس" کے باب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے اس میں نصیحت کی ہے کہ وہ ظاہر و پوشیدہ ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہیں، فرائض و واجبات کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور محرمات و ممنوعات سے بچتے رہیں اور ہر وقت اپنی آخرت کی سدھار کی کوشش میں لگے رہے ہیں اور ہر دم یہ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور انہیں ریکارڈ میں لا رہا ہے، کوئی چیز اس کے علم سے مخفی نہیں ہے۔
آیت (91) میں اللہ نے مومنوں کو نصیحت کی کہ وہ دنیا کی شہوتوں اور لذتوں میں مشغول ہو کر، اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوجائیں، ورنہ وہ انہیں یہ سزا دے گا کہ انہیں روحانی رفعت و بلندی کے حص پر دھیان دینے سے غافل کر دے گا اور وہ اپنے جسموں کے آرام و آسائش کو ہی اپنا مطمع نظر بنا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکہف آیت (82) میں فرمایا ہے: (ولاتعلع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ہواہ وکان امرہ فرطاً) " اور آپ اس کا کہنا نہ مانئے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا رہا ہے اور جس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ "
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ دین اسلام کی حدود کو پھلانگ گئے، اللہ کے ساتھ بدعہدی کی اور اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت اور غداری کی، وہی لوگ درحقیقت اللہ کی بندگی سے روگردانی کرنے والے ہیں۔