(11) ہجرت مدینہ کے بعد مسلمان جن حالات سے گذر رہے تھے اور مکہ اور دیگر علاقوں کے کفار مسلمانوں پر جو ظلم و بربریت ڈھا رہے تھے، انہیں سن سن کر مخلص مسلمانوں کے دل تنگ ہو رہے تھے، اور چاہتے تھے کہ انہیں اللہ کی طرف سے جہاد کی اجازت مل جائے تاکہ کافروں کے ساتھ قتال کر کے ان سے انتقام لے سکیں، چنانچہ قرآن کریم میں حکم جہاد نازل ہوا، تو وہ آیتیں منافقین کے دلوں پر بجلی بن کر گریں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ایسی نظروں سے دیکھنے لگے کہ جیسے ان پر موت کی بے ہوشی طاری ہو، اب تک تو وہ نماز اور دیگر ہلکے اعمال اسلام کے ذریعہ اپنے مسلمان ہونے کا ظاہری ثبوت بہم پہنچا رہے تھے، اور اپنے نفاق پر پردہ ڈال رکھا تھا، اب جو حکم جہاد آگی اور ان سے جان و مال کی قربانی کا مطالبہ ہوا تو ان کی آنکھوں میں موت کا نقشہ پھر گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کو دھمکی دی کہ ان کے لئے ہلاکت و بربادی ہے۔ جوہی اور اصمعی نے (اولی لھم) کا یہی معنی بیان کیا ے۔ اس کا ایک دوسرا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے لئے بہتر ہے تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اپنی زبان سے اچھی بات نکالتے اور جب جہاد کا وقت آجاتا، تو انہوں نے اپنی زبان سے جو عہد کیا تھا کہ جب وقت آئے گا تو وہ اللہ کے رسول کے ساتھ جہاد کریں گے، اس عہد میں سچے ثابت ہوتے، تو یہ باتیں ان کے لئے دنیا و آخرت دونوں جگہ بہتر ثابت ہوتیں۔
آیت (22) میں انہی منافقن کو مخاطب کر کے اللہ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے ظاہری ایمان سے بھی پھر جاؤ گے اور کفر صریح کا اعلان کرو گے، تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم دور جاہلیت کی طرح ایک دوسرے کو قتل کرو گے، اور اپنے مسلمان رشتہ داروں کے خلاف جنگ کرو گے۔
(ان تولیتم) کا ایک دوسرا معنی " ان حکمتم" بھی کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے وہ لوگو جنہوں نے اسلام کو دل سے قبول نہیں کیا ہے۔ اگر تمہیں حکومت مل جائے گی تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ گے، ظلم کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ تمہیں متحد کردیا اور نیکی اور صلہ رحمی کا حکم دے کر جسموں کے ساتھ تمہارے دلوں کو بھی جوڑ دیا ہے۔
آیت (23) میں ان منافقین کا دنیا میں انجام بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے، حق بات سننے سے بہرا بنا دیا ہے اور ان کی بصیرت چھین لی ے، اسی لئے سیدھی راہ کو دیکھ ہی نہیں پا رہے ہیں۔
آیت (24) میں انہی منافقین کے بارے میں کہا گیا کہ یہ لوگ قرآن کریم کی ان آیتوں میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے ہیں جو عبرتوں اور نصیحتوں اور نصیحتوں سے بھری پڑی ہیں، تاکہ انہیں اپنی غلطی کا علم ہوا اور حق کی طرف رجوع کرنے کی سوچیں؟ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں کہ ان کے اندر خیر کی باتیں داخل ہوتی ہی نہیں ہیں؟ یقیناً یہی بات ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اسی لئے قرآن میں مذکور نصیحتوں کا ان کے اندر گذر ہوتا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کے دلوں کو کھولنے پر قادر ہے، وہی جسے چاہتا ہے قبول حق کی توفیق دیتا ہے۔