فهرس الكتاب

الصفحة 1943 من 6343

(17) شرک و معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ان کافروں کی جان نکالنے کے لیے جب فرشتے آتے ہیں، اور موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں، تو اللہ کے لیے اپنی طاعت و بندگی کا اظہار کرنے لگتے ہیں اور مجسم عجز و انکساری بن جاتے ہیں اور مارے دہشت کے شرک کا انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے تو شرک کا ارتکاب کیا ہی نہیں تھا، تو فرشتے ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہاں تم نے شرک کا ارتکاب کیا تھا، اور اللہ تمہارے کرتوتوں کو خوب جانتا ہے، اس لیے جھوٹ بولنے وار انکار کرنے سے تم جان بر نہ ہوسکو گے، اب تم لوگ اپنے اپنے گناہوں اور شرکیہ اعمال کے مطابق جہنم کے مختلف طبقات میں ان کے دروازوں سے دخل ہوجاؤ اور ہمیشہ کے لیے اسی میں جلتے رہو، جو اللہ کی عبادت سے منہ پھیرنے والوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ کفار کی روحیں موت کے بعد ہی جہنم میں داخل ہوجاتی ہیں اور قبروں میں جہنم کی آگ کی سوزش ان کے جسموں تک پہچنتی رہتی ہے، قیامت کے دن ان کی روحیں ان کے اجسام میں دوبارہ داخل کردی جائیں گی اور وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں بھیج دیئے جائیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت