فهرس الكتاب

الصفحة 1953 من 6343

(24) کفار قریش کے کفر اور کبر و عباد کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ وہ قیامت کے دن کا انکار کرتے تھے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو ایک امر مستحیل سمجھتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ جو مرجائے گا اللہ اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہاں، ایسا ہو کر رہے گا، یہ اللہ کا ایسا وعدہ ہے جسے پورا ہونا ہے، لیکن اکثر لوگ اپنی نادانی کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ لوگ دوبارہ زندہ ہوں تاکہ دنیا میں اپنے کیے کی پاداش پائیں، عمل صالح کرنے والے جنت میں داخل کیے جائیں اور برا کرنے والے اپنے کیے کی سزا پائیں۔ آیات (39، 40) میں یہی کچھ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے، وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرلیتا ہے تو ہوجا کہتا ہے اور وہ چیز ہوجاتی ہے، ممکن نہیں کہ کوئی شے اللہ کے اس قول کے بعد وجود میں نہ آئے، اور لوگوں کا دوبارہ زندہ کیا جانا اللہ کی مذکورہ بالا قدرت سے خارج نہیں ہے، اس لیے ممکن نہیں کہ اللہ چاہے اور مردے دوبارہ زندہ نہ ہوں، وباللہ التوفیق۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت