فهرس الكتاب

الصفحة 4734 من 6343

(4) کفار مکہ نے قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واضح اور صریح نبوت کا انکار دلائل و براہین کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض ظن وتخمینہ کی بنیاد پر کیا تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان جھوٹوں پر لعنت دی مفسرین لکھتے ہیں کہ " قتل" کی اضافت جب اللہ کی طرف ہوتی ہے، تو اس سے مقصود " لعنت" ہوتی ہے، یعنی اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے محروم کردیا ہے۔ ان کی جہالت و نادانی کا حال یہ ہے کہ جو قرآن ان کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہے، اس سے یکسر غافل، اپنی جسمانی لذتوں اور شہوتوں کی تکمیل میں منہمک ہیں اور اگر کبھی قیامت کے بارے میں پوچھتے بھی ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے کے لئے

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آیت (13) میں ان کے اس استہزاء آمیز سوال کا جواب یہ دیا کہ قیامت اس دن آئے گی جب کفار مکہ جہنم کی آگ میں جلائے جائیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت