(2) نبی کریم اور معراج کے ذکر کے بعد موسیٰ کلیم اللہ اور ان کی کتاب تورات کا ذکر کرنا مناسب ہوا۔ اس لیے کہ بسا اوقات قرآن کریم میں نبی کریم اور موسیٰ (علیہ السلام) اور قرآن و تورات کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ رزای کہتے ہیں کہ پہلی آیت میں چونکہ نبی کریم اور معراج کا ذکر آیا ہے، اس لیے مناسب رہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آتا اور بتایا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے پہلے انہیں تورات جیسی آسمانی کتاب دی تھی، دونوں ہی کتابوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو یہی حکم دیا تھا کہ وہ اس کے علاوہ کسی کو اپنا دوست اور معبود نہ بنائیں۔
آیت (3) میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو نوح کی ذریت کے لفظ سے تعبیر کر کے انہیں یہ احساس دلانا چاہا ہے کہ اس نے تمہارے جد اعلی کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا تھا اس احسان کا تقاضا ہے کہ تم لوگ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، آیت کے آخرت میں نوح (علیہ السلام) کو کو شکر گزار بندہ بتایا گیا ہے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کی اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر دنیا میں رہے، اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان کے شکر ہی کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق ہونے سے بچا لیا تھا اس لہیے ان کی ذریت کو انہی کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔