(6) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار قریش کی اذیتوں پر صبر کی تلقین کے بعدفرعون موسیٰ کا ذکر اس مناسبت سے ہے کہ جس طرح فرعون اپنے کبر و غرور کی وجہ سے اللہ پر ایمان نہیں لایا اور ہلاک کردیا گیا، مجرمین مکہ کا انجام بھی ویسا ہی ہوسکتا ہے، اس لئے کہ یہ بھی حق کو جاننے اور پہچاننے کے بعد اللہ پر ایمان نہیں لا رہے ہیں اور اس کے نبی کی ایذا رسانی کے درپے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے اہل مکہ ! یا اے کفار عرب ! ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے لئے نبی بنا کربھیجا ہے اور قیامت کے دن ہم تمہاری بد اعمالیوں کی گواہی دیں گے اور تب تمہارا انجامب ہت ہی برا ہوگا جسطرح ہم نے فرعون کے پاس موسیٰ کو نبی بنا کر بھیجا تھا اور فرعون نے ان کی بات نہیں مانی تھی، تو ہم نے فرعون اور فرعونیوں کی بڑی سخت گرفت کیتھی اور ان تمام کو سمندر میں ڈبو دیا تھا۔