(43) اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں امہات المومنین کا بہت ہی بلند مقام ہے، اسی لئے ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق جب اللہ کی ان نیک بندیوں نے اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا پر ترجیح دی تو اللہ نے ان کے لئے جزائے خیر کے طور پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ان کے علاوہ عورتوں سے شادی کو ممنوع قرار دے دیا اور اس آیت کریمہ میں عام مومنوں کو ان امہات المومنین کا احترام و ادب سکھایا اور ایسی باتوں سے منع فرمایا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امہات المومنین کے لئے ذہنی اذیت کا باعث ہو۔
یہ آیت " آیت حجاب" سے مشہور ہے اور انس (رض) سے مروی بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زینب بنت حجش سے شادی کے موقع سے دعوت ولیمہ کی، تو کچھ لوگوں نے کھانا کھانے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر سے واپس جانے میں کافی دیر کردی، جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذہنی تکلیف ہوئی اور ان کے چلے جانے کے بعد آپ نے اپنے اور لوگوں کے درمیان پردہ ڈال دیا اور اندر چلے گئے، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس میں صحابہ کرام کو آپ کے گھروں میں بغیر اجازت داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
(الا ان یوذن لکم الی طعام) سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بغیر دعوت کسی کے دستر خوان پر کھانا کھانے کے لئے نہیں پہنچ جانا چاہئے۔ حافظ ابن کثیر نے اسے حرام بتایا ہے صاحب محاسن التنزیل (غیر ناظرین اناہ) کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ دعوت ہونے کے باوجود وقت سے پہلے نہیں پہنچ جانا چاہئے، اس لئے کہ اس سے دعوت دینے والے کو تکلیف ہوتی
ہے، اور مہمان کے ساتھ بیٹھ کر غیر ضروری باتوں میں اس کا وقت ضائع ہوتا ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ دعوت کا جو وقت تمہیں بتایا جائے اسی وقت میزبان کے گھر میں داخل ہو۔
(فاذا طعمتم فانشروا) میں صحابہ کرام کو ادب سکھایا گیا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد آپس میں باتیں کرنے کے لئے یا گھر والوں کی باتیں سننے کے لئے بیٹھے نہیں رہنا چاہئے، اس لئے کہ اس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے گھر والوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور آپ اپنے کمال اخلاق کی وجہ سے اپنی زبان سے نہیں کہہ پاتے ہیں، لیکن اللہ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا ہے۔
(واذا سالتمومھن متاعا) میں صحابہ کرام کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ امہات المومنین سے اگر کوئی چیز مانگنی ہو، تو بے دھڑک ان کے سامنے نہ چلے جائیں، ان کے ساتھ ادب و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ دروازے کے اوٹ سے اور پردہ کے پیچھے سے کوئی چیز ماگنی جائے، تاکہ ان کی بے پردگی نہ ہوجائے اور اس کا فائدہ یہ بتایا کہ اس سے تمہارے اور امہات المومنین کے دلوں کی پاکی محفوظ رہے گی اور شیطان کو ذہن میں برے خیالات پیدا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
ابو داؤ دن یانس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے، عمر (رض) نے کہا کہ چار باتوں میں میری رائے میرے رب کی رائے کے موافق ہوئی ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! بہتر ہو تاکہ آپ اپنی بیویوں کے لئے پردہ ضروری کردیتے، کیونکہ نیک و بدسبھی ان کے پاس چلے جاتے ہیں، تو اللہ نے (واذا سالتموھن) الآیۃ نازل فرمائی۔ ابن سعد نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ 5 ھ کا واقعہ ہے۔
ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی (غالباً منافق تھا) نے کہا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ان کی بعض بیویوں سے شادی کرلے گا، تو (وما کان لکم ان توذوا رسول اللہ) آلایۃ نازل ہوئی، اور اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امہات المومنین سے شادی کو تمام مسلمانوں کے لئے حرام کردیا۔
آیت کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ کسی کا ایسا سوچنا اور کرنا اس کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے، اس لئے کہ اس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احترام و ادب یکسر پامال ہوجائے گا۔ مفسر ابوالسعود لکھتے ہیں کہ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک نبی کریم کا کتنا بڑا مقام تھا۔ اسی لئے آیت (54) میں بطور دھمکی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم چاہے کسی بات کو ظاہر کرو (جیسا کہ بعض منافقوں نے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض بیویوں سے شادی کی بات کی) یا اپنے دلوں میں چھپائے رکھو اسے سب کچھ کا پتہ ہے اور وہ ان تمام ظاہر و مخفی گناہوں کا بدلہ تمہیں ضرور دے گا۔