فهرس الكتاب

الصفحة 4955 من 6343

(1) اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا اپنے نام " الرحمٰن" سے کی ہے جو اس کی بے انتہا رحمتوں بے شمار احسانات اور بے حد و حساب نعمتوں پر دلالت کرتا ہے اور پھر اپنی بے پایاں دینی، دنیاوی اور اخروی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔

ان نعمتوں میں عظیم ترین دینی نعمت قرآن کریم ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ ان تمام باتوں کو بیان فرما دیا ہے جن سے وہ خوش ہوتا ہے، یا جن سے وہ نارضا ہوتا ہے، تاکہ انسان اپنے رب کی خوشی کے کام کرے اور ان کاموں سے دور رہے جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے دیگر ناموں کے بجائے " الرحمٰن" کے ذکر سے مقصود، مشرکین مکہ کی تردید ہے جو باری تعالیٰ کے اس نام کا انکار کرتے تھے اور ان یک اس زعم باطل کی بھی تردید ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس قرآن کریم کی تعلیم کوئی انسان دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو رحمٰن کا کلام ہے جو اس نے اپنے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکھایا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت