فهرس الكتاب

الصفحة 4427 من 6343

(27) اس آیت کریمہ کا مفہوم بیان کرنے میں علمائے تفسیر کے کئی اقوال ہیں: مجاہد ضحاک، سدی اور قتادہ کا خیال ہے کہ یہاں عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں، یعنی خروج دجال کی طرح ان کا خروج بھی قیامت کی نشانی ہے۔ حسن بصری اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ قرآن کریم مراد ہے، یعنی نزول قرآن قرب قیامت کی نشانی ہے اور اس میں اس کے احوال و کوائف بیان کئے گئے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا کیا جانا بعث بعد الموت کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اور بعض نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مراد لیا ہے، یعنی آپ کی بعثتقرب قیامت کی نشانی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی فرمایا کہ لوگ ! قیامت کے بارے میں ذرا بھی شک و شبہ نہ کرو، اس کا آنا یقینی ہے، اور اللہ کی طرف سے میں تمہیں جن باتوں کا حکم دیتا ہوں ان پر عمل کرو، اللہ کو ایک جانو، اس کے ساتھ غیروں کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اس نے جو احکام فرض کئے ہیں بجا لاؤ، یہی سیدھی راہ ہے۔

دیکھو ! شیطان تمہارے دلوں میں اسلام، قرآن اور میرے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر کے تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، اور میری پیروی کرنا نہ چھوڑ دو، کیونکہ میں تمہیں اسی دین کی دعوت دے رہا ہے جو تمام انبیائے کرام کا دین تھا، اور جس کی وضاحت و بیان کے لئے تمام آسمانی کتابیں نازل ہوئیں، دیکھو ! شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، وہ تم سے اپنی عداوت کی صراحت رب العالمین کے سامنے کرچکا ہے۔ اس لئے اس سے بڑھ کر بے عقلی کیا ہوگی کہ تم اپنے صریح دشمن کی پیروی کرو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت