(25) ابراہیم (علیہ السلام) نے شام کی مقدس سر زمین میں پہنچنے کے بعد دعا کی کہ اے میرے رب ! مجھے ایک نیک لڑکا عطا فرما جو غریب الدیاری میں میرے انس و دل بستگی کا سامان بنے اور تیری اطاعت و بندگی میں میری مدد کرے۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہاجرہ کے بطن سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
پھر اللہ کے حکم سے ماں اور بیٹے کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں پہنچا دیا، جہاں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے آب زمزم مہیا کردیا اور قبیلہ جر ہم کو لا کر بسا دیا اسماعیل (علیہ السلام) جب جوان ہوئے تو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں بذریعہ وحی حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی خوشنودی کے لئے اپنے چہیتے بیٹے کی قربانی دیں، انہوں نے اپنا خواب بیٹے سے بیان کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا تو بیٹے نے کہا، ابا جان ! آپ کو جو حکم ہوا ہے اسے کر گذریئے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، ابراہیم (علیہ السلام) بیٹے کو ساتھ لے کر منیٰ کی طرف چل پڑے اور جمرات کی جگہ پہنچ کر انہیں پیشانی کے بل ڈال دیا، اور چھری ان کی گردن پر رکھ دی اچانک دیکھتے کیا ہیں کہ وہاں ایک مینڈھا کھڑا ہے، ایک غیبی آواز آئی کہ آپ بیٹے کو چھوڑ دیجیے اور مینڈھے کو ذبح کیجیے، آیت (4) سے آگے تک یہی کچھ بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آواز دی اور کہا کہ آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اور کمال طاعت اور عظیم ترین صبر و ثبات کی دلیل پیش کردی۔ اب آپ بیٹے کو ذبح نہ کیجیے، ہم احسان اور عمل کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں، بے شک یہی وہ کھلی اور صریح آزمائش ہے جس کے ذریعہ مخلص و غیر مخلص کا امتیاز ہوجاتا ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں، آیت کریمہ (601) میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خواب کی تعمیل میں ابراہیم (علیہ السلام) کا امتحان تھا تاکہ وہ اپنے عزیز ترین بیٹے کی قربانی دے کر اللہ سے اپنی غایت محبت اور انتہائے طاعت و بندگی کا ثبوت بہم پہنچائیں چنانچہ جب وہ اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اللہ نے ایک مینڈھا بھیج دیا تاکہ بیٹے کے بدلے اسے ذبح کریں۔