(8) (قدافلح من تزکی) سے (خیرو ابقی) تک یہ بیان کیا گیا ہے کہ کامیابی ان کے لئے ہے جو اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں، اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں اور یہ کہ لوگ دنیاکی فانی لذتوں کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ آخرت کی نعمتیں بہتر اور لازوال ہیں یہ باتیں صحائف ابراہیم (جن کی تعداد دس تھی) اور صحیفہ موسیٰ یعنی تورات میں بھی مذکورتھیں بعض مفسرین نے اس سے مراد وہ تمام باتیں لی ہیں جو اس سورت میں بیان کی گئی ہیں۔ وباللہ التوفیق